29/03/2026
📢 مدارس میں فنی مدرسین کا نایاب ہونا — ایک خاموش المیہ 😭
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمت فرماتے ہیں مدرسین کو بیش قرار تنخواہیں دی جائیں ۔
حضور قطب الارشاد علیہ الرحمہ فرماتے تھے کہ
درس نظامی کے ہر مدرس کا وظیفہ ایک لاکھ روپے سے شروع ھو رہائش و مراعات بھی ساتھ ھو
👈 اگلے دو عشروں میں مدارس میں تجربہ کار، ماہرین فن اور کتابوں پہ عبور رکھنے والے مدرسین کا شدید قحط پڑ جائے گا.......پرانے ہنر مند اٹھتے جارہے ہیں.....اور نئے مدرسین پیدا نہیں ہو رہے۔ اس کی
ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اب مدارس میں بھی تدریس قابلیت
کی بنا پر نہیں بلکہ......*اقربا پروری گروہ پرستی اور تعلقات کی بنا پر دیجاتی ہے یا پھر پبلک اسکولوں کی طرح اپنے شاگرد رکھے جاتے ہیں جو کم تنخوہ پرگزار کرنے والے اور چاپلوسی کرنے والے ہو.*
👈 اگر قابلِ مدرس رکھ بھی لیں تو نہ تو اس کو معقول وظیفہ دیتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدر کرتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستانی حکمران اپنے سانئس دانوں اور ڈاکٹروں کی قدر نہیں کرتے تو وہ امریکہ چلے جاتے ہیں..... اسی طرح قابل مدرسین پھر خود مدرسہ کھولنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ اس طرح انکی تدریسی صلاحیتیں مدرسہ چلانے میں لگجاتی ہیں۔
👈 یہ صورتِ حال بڑھتی ہی جارہی ہے اور آنے والے وقتوں میں اسی سبب درسگاہوں میں سخت قحط دیکھنے کو ملے گا....بہت سارے ایسے ہیں جو تدریس کے ساتھ ساتھ کاروبار سے بھی جڑے ہوئے ہیں ایسے میں ایک مدرس کی حقیقی روح ختم ہو جاتی ہے تحقیق کے دروازے بند ہو جاتے ہیں.....کیونکہ دورانِ مطالعہ بھی ذہن منتشر، دوران اسباق بھی کاروبار میں الجھا ہوا اور ان دونوں سے جو وقت بچا وہ کاروبار کی مصروفیات میں گزر گیا نہیں تو یوں کہیے کہ بمشکل تدریسی فرائض کے لیے وقت نکلتا ہے۔
👈 یوں محقیقین علماء یاد ماضی بنتے جارہے ہیں....ویسے بھی کتاب بینی کی جگہ اب موبائل بینی ہو جاتی ہے کتاب بھی پی ڈی ایف فائل میں ہی مل جاتی ہے تو کتاب اٹھا کر یکسو ہو کر پڑھنے کی برکات سے محروم ہونا پڑا...
👈 اس کی وجہ نہیں وجوہات ہیں۔ جدید دور کی چمک نے آنکھیں خیرہ کر رکھی ہیں. مدارس کی کم تنخواہوں نے بھی آزاد کاروباری زندگی اپنانے کی راہیں دکھائی ہیں. اور مہتمم حضرات کے نزدیک مدرِّسین کی
قدر نہ ہونا بھی شامل ہے جس کی وجہ سے حوصلہ شکنی پیدا ہوئی اور علماء نے تجارت کو ترجیح دینا مناسب سمجھا...
👈 بہت سارے باصلاحیت اور کار آمد فضلاء کو مدارس میں جگہ صرف اس لیے نہیں ملتی کہ وہ خود دار ہوتے ہیں۔ ان میں جی حضوری و چاپلوسی کا مادہ یا تو کم ہوتا ہے یا سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ ایسے لوگ مہتممین کی حکمرانی میں خلل کا باعث ہو جاتے ہیں۔ ان کی جگہ چاپلوسی کرنے والوں کو دی جاتی ہے جن کا واحد سرمایہ بس یہی ہوتا ہے اس طرح اچھے لوگوں کا راستہ کٹ جاتا ہے اور وہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں ضم ہو جاتے ہیں۔
👈 وہ وقت دور نہیں جب ہم دیکھیں گے کہ شیخ الحدیث بھی سبق بجائے نفس کتاب کے شروحات کھول کے سامنے رکھ کر پڑھا رہا ہوگا باقی نیچے والے مدرسین کا سین خود سوچیں کہ کیا ہو گا۔
👈 ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے نظام کو ازسرنو تعمیر کیا جائے۔ مہتمم گردی کی بیخ کنی کے ساتھ اس کی بنیاد عدل و مساوات، ایمانداری و پرہیزگاری پر رکھی جائے۔ اگر سیدنا ابوکر صدیق رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ ایک عام آدمی کے برابر میرا وظیفہ مقرر کیا جائے تو پھر آج کا مہتمم کیوں ایک عام مدرس کے بقدر تنخواہ نہیں لے سکتا ؟؟
یا عام مدرس کی تنخواہ اپنے وظیفہ کے برابر نہیں دے سکتا ؟؟
👈ہم مدارس چاہتے ہیں یا صرف مدارس کی عمارتیں؟
ہم علماء چاہتے ہیں یا صرف اساتذہ کی فہرستیں؟
ہم تحقیق چاہتے ہیں یا رسمی اسباق؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خلاصہ کلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدارس کی بقا اینٹوں سے نہیں،
باصلاحیت، مطمئن اور باوقار مدرسین سے ہے۔
اگر ہم نے مدرس کی عزت، کفالت اور علمی آزادی کو یقینی نہ بنایا تو آنے والا خلا ناقابلِ تلافی ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عدل، اخلاص اور دور اندیشی عطا فرمائے،
اور ہمارے مدارس کو حقیقی علمی مراکز بنائے۔
آپ کی بھی قیمتی رائے اس موضوع پر نہایت اہم ہے ضرور آپ بھی کمنٹ اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں
جزاکم اللہ خیراً کثیراً 🌹