12/04/2023
(إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون)
میرے پیارے بابا جان۔
عزیز تر رکھتا ہے مجھے رغ جاں سے
میرا باپ کم نہیں میری ماں سے
۲۱ رمضان مبارک کی صبح جب وقت فجر، ازان جاری ہوئی بنا کچھ سمجھے لاشعوری طور پر بابا جان کے لیے دعا زبان پر جاری ہوگی ، ازان مکمل ہوئی اور میرے بابا جان ازان کا جواب دیتے ہوئے اور با آواز بلند کلمہ حق باری تعالیٰ پڑھ کر اس جہان فانی کو چھوڑ گئے۔ انسان فطری طور پر چاہئے کتنا ہے مضبوط کیوں نہ ہو لیکن والد یہ والدہ کا ساتھ ختم ہوتے ہی دنیا کا کمزور ترین شخص بن جاتا ہے ۔ میرے والد صاحب اپنی زندگی میں ۲۱ رمضان مبارک کو یوم علی کی نسبت سے خصوصی تلاوت قرآن پاک اور دعا کا انعقاد کرتے تھے اور اکثر دعا میں موت کے وقت ازان اور کلمہ پڑھنے کی توفیق مانگا کرتے تھے۔ بابا جان کے دور ہونے کے چند لمحہ میں ، اس وقت کا احاس ہوا کے جب اہل بیت کیے گھر میں حضرت علی کی شہادت کی خبر عام ہوئی ہوگی تو اہل بیت سے محبت کرنے والوں پر کیا قیامت ٹوٹی ہوگی، میرے والد صاحب کی اہل بیت سے محبت روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے ۔ اہل بیت کی نسبت سے ہی ہم بھائیوں کے نام اور نام کے ساتھ " حسین " آتا ہے۔ ساری زندگی انہوں نے ایک چیز جس کو بنیاد بنائے رکھا وہ تھی کے مزدوری اور دوسروں کے کام آنے سے کبھی نہ ڈرنا نہ ہی پیچھے ہٹنا۔ آج میرے بابا کو ہم سے بچھڑے ۴ سال ہوگئے لیکن دل کا زخم اج بھی ویسے ہی تازہ ہے۔آنکھ آج بھی نم ہے۔ اُن سے خصوصی دوستی ہی میرے کامیابی کا زینہ ہے۔ ہمیشہ اُن کی زبان سے ہر شخص کے لیے دعا سنی اور اسی عمل کو ہم بھائیوں نے بھی اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔
میری آپ سب سے گزارش ہے کے دعا مغفرت اور درود ابراہیمی پڑھ کر میرے بابا جان کی مغفرت بے حساب بخشش کے لیے رب کے حضور خصوصی دعا کریں ۔ اللہ پاک تمام لوگ جو اس جہاں فانی کو چھوڑ گئے ہیں سب کے لیے آسانی اور جہنم سے نجات فرمائے آمین سم امین