11/03/2026
لیلۃ القدر
پانچ دروازے
پہلا دروازہ — اکیسویں شب
رمضان کی آخری دس راتیں دراصل رحمت کے خفیہ دروازے ہیں۔ ان میں سے ایک عظیم رات لیلۃ القدر ہے۔ قرآن کہتا ہے:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ
(لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے)
علماء اور اہلِ دل کہتے ہیں کہ رمضان کی آخری راتوں میں گویا رحمت کے کئی دروازے کھلتے ہیں۔ ہر رات ایک نئی کیفیت، ایک نئی قربت اور ایک نئی امید لے کر آتی ہے۔
اکیسویں شب کو ہم پہلا دروازہ کہہ سکتے ہیں۔
پہلا دروازہ
بیداری کا دروازہ
اکیسویں رات دراصل ایک جاگنے کی رات ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب مومن اپنے دل سے پوچھتا ہے:
• کیا میں واقعی اللہ کو چاہتا ہوں؟
• کیا میں نے رمضان کو صرف روزوں تک محدود رکھا؟
• یا میں اپنے رب کے قریب آنا چاہتا ہوں؟
یہ رات انسان کو غفلت سے بیدار کرتی ہے۔
دل کی صفائی کا آغاز
اکیسویں رات دراصل دل کی صفائی کا پہلا قدم ہے۔
اس رات انسان کو تین کام کرنے چاہئیں:
1۔ استغفار
دل کے بوجھ کو ہلکا کرنا۔
رسول اللہ ﷺ کثرت سے استغفار کرتے تھے۔
کہیں دل کی دیواروں پر جمع گناہوں کی گرد ہی نور کے آنے میں رکاوٹ نہ بن جائے۔
2۔ قرآن سے تعلق
لیلۃ القدر کا سب سے گہرا تعلق قرآن سے ہے۔
کیونکہ قرآن اسی رات نازل ہوا۔
اس لیے اکیسویں رات قرآن کو صرف پڑھنا نہیں بلکہ
دل سے سننا چاہیے۔
3۔ دعا
یہ رات دعا کی رات ہے۔
دل کے دروازے کھول کر مانگیں:
• ہدایت
• سکون
• ایمان
• اور اللہ کی محبت
کیونکہ جو دل اس رات اللہ سے مانگنا سیکھ لیتا ہے
وہ کبھی خالی نہیں رہتا۔
اکیسویں رات دراصل یہ اعلان ہے کہ:
جو شخص اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے
اللہ اس کی طرف رحمت کے کئی دروازے کھول دیتا ہے۔
شاید یہی رات ہو جب:
• کسی کے گناہ معاف ہو جائیں
• کسی کے دل میں قرآن کی محبت جاگ جائے
• کسی کی زندگی کا رخ بدل جائے۔
ایک خاموش راز
بہت سے اولیاء کہتے ہیں کہ لیلۃ القدر کو چھپا دیا گیا ہے
تاکہ مومن صرف ایک رات نہیں بلکہ کئی راتیں تلاش کرے۔
اکیسویں رات اس تلاش کی پہلی سیڑھی ہے۔
یہ دراصل اللہ کی طرف چلنے والے مسافر کی
پہلی دستک ہے