sufi faqeer bahoo

sufi faqeer bahoo urdu

13/01/2026

#الھم صل علی محمد و علٰی آل محمد

13/01/2026

#باھو

03/01/2026
03/01/2026
10/10/2025

#الھم صل علی محمد و علٰی آل محمد

30/08/2025

جب بھی ملک پر کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو کچھ لوگ اپنا کام چھوڑ کر مذہب اور اولیاء کرام پر بے جا تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں بھی بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر اولیاء کرام سچے ہیں تو کرامت دکھا کر سیلاب روک کیوں نہیں دیتے؟ یا مزارات پر پانی کیوں آ گیا ؟

ایسی بات کرنا حقیقت میں لا علمی اور جہالت ہے۔

قرآن پاک میں کرامات کا ذکر موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَـٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ
(سورۃ آلِ عمران 37)
"جب بھی زکریا علیہ السلام ان کے پاس محراب میں جاتے تو وہاں انہیں کھانے پینے کا سامان ملتا۔ وہ پوچھتے اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ تو وہ جواب دیتیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے۔"

یہ صریح کرامت ہے کہ بی بی مریمؑ کے پاس بے موسم رزق آتا تھا۔
اسی طرح حضرت آصف بن برخیاہؒ کے بارے میں فرمایا:
قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ
(سورۃ النمل 40)
"وہ شخص جس کے پاس کتاب کا تھوڑا سا علم تھا، بولا: میں تخت (بلقیس) آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔"
یہ بھی کرامت ہے جو قرآن نے بیان کی۔
اب حدیث مبارکہ پر غور کریں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ"
(ترمذی، حدیث 3127)
"مؤمن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔"
یہ دراصل اولیاء اللہ کے باطنی کمالات اور کرامات کی طرف واضح اشارہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کرامات حق ہیں تو پھر اولیاء اپنے مزارات یا شہروں کو آفات سے کیوں نہیں بچا لیتے؟
تو میرے بھائی اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ دنیا اللہ کے بنائے ہوئے قوانینِ قدرت کے تحت چل رہی ہے۔ اگر یہ اعتراض درست ہو تو پھر یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ مسجدیں کیوں شہید ہو جاتی ہیں ؟ حالیہ سیلاب میں درجنوں مساجد شہید ہوگئیں اگر کوئی کہے تو میں ویڈیوز پیش کر سکتا ہوں، حالانکہ وہ اللہ کا گھر ہیں۔ حج کے دوران بیت اللہ شریف میں بھی کئی حادثے ہو چکے جن میں سینکڑوں حجاج شہید ہوئے، حالانکہ وہ اللہ کے مہمان تھے۔ ۔

اصل بات یہ ہے کہ:

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، مگر اس نے دنیا کو ایک خاص نظام کے تحت چلانا ہے۔

ولی کبھی اپنے مطالبے پر کرامت نہیں دکھاتا، بلکہ اگر اللہ چاہے تو ان کی دعا قبول فرما کر اپنی قدرت کا اظہار کر دیتا ہے۔
اور یاد رکھیں! کرامت ہمیشہ اللہ کے اذن اور قدرت سے ہوتی ہے، ولی محض وسیلہ ہوتا ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
"ولی کرامت کو اس طرح چھپاتا ہے جس طرح عورت حیض کے کپڑے چھپاتی ہے۔"
یعنی اللہ عزوجل کے ولی کے نزدیک اصل چیز معرفتِ الٰہی ہے، کرامت نہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ کرامت حق ہے، مگر یہ اللہ کی عطا ہے، نہ کہ ولی کی مرضی۔ اور کسی آفت کے وقت اولیاء کرام پر اعتراض کرنا دراصل قرآن و سنت کے بیان کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور نری جہالت ہے،

18/05/2025
02/12/2024
18/11/2024

Address

Masood Abad
Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when sufi faqeer bahoo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Restaurant

Send a message to sufi faqeer bahoo:

Share

Category