30/04/2023
شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے
گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے
نا شکر! یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے
کس خاکِ پاک کی تو بنی خاکِ پا شفا
تجھ کو قسم جنابِ مسیحا کے سر کی ہے
آبِ حیاتِ روح ہے زرقا کی بوند بوند
اکسیرِ اعظمِ مسِ دل خاکِ در کی ہے
ہم کو تو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائے
حیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے
لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یوں ہی سُنا کیے
ہر بار دی وہ امن کہ غیرت حضر کی ہے
وہ دیکھو جگمگاتی ہے شب اور قمر ابھی
پہروں نہیں کہ بست و چہارم صفر کی ہے
ماہِ مدینہ اپنی تجلّی عطا کرے
یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے
مَنْ زَارَ تُرْبَتِیْ وَجَبَتْ لَہ شَفَاعَتِیْ
اُن پر دُرود جن سے نوید اِن بُشَر کی ہے
اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیے
اصلِ مُراد حاضری اس پاک در ہے
کعبے کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے
کعبہ بھی ہے انھیں کی تجلّی کا ایک ظل
روشن انھیں کے عکس سے پتلی حجر کی ہے
ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منیٰ
لَوْلَاک والے صاحبی سب تیرے گھر کی ہے
مولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
صدّیق بلکہ غار میں جان اس پہ دے چکے
اور حفظِ جاں تو جان فروضِ غُرَر کی ہے
ہاں تو نے اِن کو جان، اُنھیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجْوَر کی ہے
شر خیر شور سور شرر دور نار نور
بشریٰ کہ بارگاہ یہ خیر البشر کی ہے
مجرم بلائے آئے ہیں جَاءُوْک ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے
بد ہیں مگر انھیں کے ہیں باغی نہیں ہیں ہم
نجدی نہ آئے اس کو یہ منزل خطر کی ہے
تف نجدیت نہ کفر نہ اسلام سب پہ حرف
کافر اِدھر کی ہے نہ اُدھر کی اَدھر کی ہے
حاکم ، حکیم داد و دوا دیں یہ کچھ نہ دیں
مردود یہ مُراد کس آیت، خبر کی ہے
شکلِ بشر میں نورِ الٰہی اگر نہ ہو
کیا قدر اُس خمیرۂ ما و مدر کی ہے
نورِ الٰہ کیا ہے محبّت حبیب کی
جس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک و خر کی ہے
ذکرِ خدا جو اُن سے جُدا چاہو نجدیو
واللہ! ذکرِ حق نہیں کنجی سقر کی ہے
بے اُن کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے
حاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے
مقصود یہ ہیں آدم و نوح و خلیل سے
تخمِ کرم میں ساری کرامت ثمر کی ہے
اُن کی نبوّت ، اُن کی اُبوّت ہے