14/05/2026
*یادیں لاہور کی، باتیں لاہور کی*
***لاہور کے روشن ستارے***
لاہور صرف ایک شہر نہیں، ایک زندہ تاریخ ہے جو اپنی گلیوں، عمارتوں اور انسانوں کے ناموں میں سانس لیتی ہے۔ مگر افسوس کہ وقت کے دھندلکوں میں ہم ان روشن ستاروں کے نام بھولتے جا رہے ہیں جنہوں نے مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق مٹا کر صرف انسانیت کی خدمت کو اپنا مذہب بنایا۔ یہ کالم انہی گمشدہ چراغوں کو دوبارہ جلانے کی ایک کوش ہے۔
یہاں آپ کو ملیں گے رائے بہادر میلہ رام، جنہوں نے لاہور کو پہلی بار بجلی اور چڑیا گھر عطا کیا۔ سر گنگا رام، جنہیں لاہور آج بھی "بابائے جدید" کہتا ہے۔ گلاب دیوی اور جانکی دیوی، جنہوں نے ماؤں بہنوں کے لیے اپنے نام کے ہسپتال وقف کیے۔ دیال سنگھ، لالہ لاجپت رائے، حکیم اجمل خان، بھگت سنگھ شہید اور دیگر بے شمار ہستیاں جن کی نیکیاں آج بھی اس شہر کی رگوں میں دوڑ رہی ہیں۔
انسانیت کی معراج صرف اور صرف انسانیت کی خدمت میں ہی مضمر ہے۔ وہ خدمت جو کسی نمود و نمائش کے بغیر، صرف فی سبیل اللہ، خوشنودیِ خدا کے لیے کی جائے۔ میرا رب یقیناً ان مخلص بندوں کو ان کی نیکیوں کا اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔
لاہور کی مٹی نے ہمیشہ ایسے ہی نیک دل انسانوں کو جنم دیا ہے جو آج بھی اس شہر کے ماتھے پر جھومر کی طرح چمک رہے ہیں۔ ان کا تذکرہ سنتے ہی دلوں میں ایک چراغ جل اٹھتا ہے۔ کیا بلند مرتبہ ہستیاں تھیں
*رائے بہادر میلہ رام*
لاہور کے رئیس ترین صنعت کار اور غریب پرور شخصیت۔ 1904 میں انہوں نے لاہور کا پہلا بجلی گھر لگایا اور سب سے پہلے داتا دربار علی ہجویریؒ کے مزار کو منور کیا۔ صرف یہی نہیں، اپنی مل سے ایک کنکشن کھینچ کر کربلا گامے شاہ کو بھی روشنی بخشی، کسی مذہبی تفریق کے بغیر۔
1921 میں انہوں نے مال روڈ پر اپنی 35 کنال سے زائد زمین لاہور کے چڑیا گھر کے لیے عطیہ کی۔ یہ چڑیا گھر جب تک قائم رہے گا، میلہ رام کا نام بھی زندہ رہے گا۔
*سر گنگا رام*
"بابائے جدید لاہور" کا خطاب پانے والی شخصیت۔ ان کی عطا کردہ یادگاریں آج بھی بولتی ہیں: گنگا رام ہسپتال، مائی بھاگو زچہ و بچہ ہسپتال، گنگا رام ہائی سکول جو بعد میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی بنا۔
انہوں نے اپنی رہائش گاہ "نابھا ہاؤس" ہیلی کالج آف کامرس کے قیام کے لیے وقف کر دی۔
ایچی سن کالج، میو سکول آف آرٹس یعنی آج کی NCA، لاہور میوزیم، اور شہر میں پانی کی سبیلیں بھی ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
میلہ رام کی طرح لاہور ہمیشہ سر گنگا رام کا ممنون رہے گا۔
*گلاب دیوی*
لاہور کی وہ بیٹی جس نے ٹی بی کے مریضوں کی بے لوث خدمت کو اپنا مشن بنایا۔ ان کے نام سے قائم "گلاب دیوی ہسپتال"
آج بھی لاکھوں غریب مریضوں کا سہارا ہے۔
یہ ہسپتال لالہ لاجپت رائے کی والدہ "گلاب دیوی" کی یاد میں 1934 میں قائم ہوا۔
*جانکی دیوی*
زچہ و بچہ کی صحت کے لیے وقف ہستی۔ "جانکی دیوی میٹرنٹی ہسپتال" ان کی محبت اور فکر کا زندہ ثبوت ہے۔
*دیال سنگھ مجیٹھیا*
تعلیم و صحافت کے عظیم محسن۔ دیال سنگھ کالج، دیال سنگھ لائبریری اور اخبار "The Tribune" ان کی عطا ہیں۔ لاہور کا ایک بڑا تعلیمی مکتب آج بھی ان کے نام سے چمک رہا ہے۔
*لالہ لاجپت رائے*
"شیرِ پنجاب" کے نام سے مشہور آزادی کے رہنما، مگر لاہور نے انہیں ایک معلم اور سماجی مصلح کے طور پر بھی دیکھا۔
انہوں نے نیشنل کالج لاہور کی بنیاد رکھی، D.A.V کالج کے بانی رکن رہے، اور 1921 میں Servants of the People Society قائم کی۔
1928 میں سائمن کمیشن کے خلاف لاہور میں احتجاج کرتے ہوئے زخمی ہوئے اور اسی شہر میں شہید ہوئے۔
ڈاکٹر جمعیت سنگھ
لاہور کے نامور معالج اور عوامی خادم۔ غریبوں کے لیے ان کا در ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔
*حکیم اجمل خان*
طبِ یونانی کے وہ آفتاب جن کی روشنی نے لاہور کے غرباء و نادار لوگوں کو صحت کا سہارا دیا۔
دہلی کے اس حکیم کا لاہور سے گہرا روحانی اور فلاحی رشتہ تھا۔ وہ بارہا لاہور تشریف لائے اور یہاں غریبوں کے لیے مفت طبی کیمپ لگائے۔
لاہور کا مشہور "اجمل خان ہسپتال" انہی کے نام اور فکر پر قائم ہے، جو آج بھی یونانی طب کے فروغ اور مفت علاج کا مرکز ہے۔
*بھگت سنگھ شہید*
لاہور کی مٹی کا وہ لعل جس نے جوانی کی قربانی سے شہر کو امر کر دیا۔
نیشنل کالج لاہور میں تعلیم کے دوران ہی انقلابی شعور نے ان کے سینے میں گھر کیا، اور سائمن کمیشن کے خلاف 1928 کے احتجاج میں وہ صفِ اول میں کھڑے تھے۔
لاہور سینٹرل جیل میں مقدمہ، وہی جیل جہاں انہیں 23 مارچ 1931 کو پھانسی دی گئی۔
آج بھی لاہور کا ہر نوجوان جب نیشنل کالج کے دروازے سے گزرتا ہے، تو اسے بھگت سنگھ کی للکار یاد آتی ہے: _"انقلاب زندہ باد!"_
لاہور کی مٹی کا یہ خاصہ ہے کہ یہ مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق سے بالا ہو کر انسانیت کے خادم پیدا کرتی ہے۔ یہ ستارے بجھتے نہیں، کیونکہ ان کی روشنی خدمت کی بنیاد پر ہے۔ لاہور آج بھی ان کا ممنون ہے، اور رہے گا۔
سوچتا ہوں، خدا ان انسان دوست، غریب پرور، مومن صفت لوگوں کو آخرت میں کس انعام سے نوازے گا۔ یقیناً میرا رب کسی کی نیکیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔
میں بحیثیت ایک لاہوری، ان عظیم ہستیوں کا ممنون ہوں۔
تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو