Papoo Lahori

Papoo Lahori This page will showcase everything about Lahore like food, history, people and best places to visit.

14/05/2026

*یادیں لاہور کی، باتیں لاہور کی*

***لاہور کے روشن ستارے***

لاہور صرف ایک شہر نہیں، ایک زندہ تاریخ ہے جو اپنی گلیوں، عمارتوں اور انسانوں کے ناموں میں سانس لیتی ہے۔ مگر افسوس کہ وقت کے دھندلکوں میں ہم ان روشن ستاروں کے نام بھولتے جا رہے ہیں جنہوں نے مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق مٹا کر صرف انسانیت کی خدمت کو اپنا مذہب بنایا۔ یہ کالم انہی گمشدہ چراغوں کو دوبارہ جلانے کی ایک کوش ہے۔

یہاں آپ کو ملیں گے رائے بہادر میلہ رام، جنہوں نے لاہور کو پہلی بار بجلی اور چڑیا گھر عطا کیا۔ سر گنگا رام، جنہیں لاہور آج بھی "بابائے جدید" کہتا ہے۔ گلاب دیوی اور جانکی دیوی، جنہوں نے ماؤں بہنوں کے لیے اپنے نام کے ہسپتال وقف کیے۔ دیال سنگھ، لالہ لاجپت رائے، حکیم اجمل خان، بھگت سنگھ شہید اور دیگر بے شمار ہستیاں جن کی نیکیاں آج بھی اس شہر کی رگوں میں دوڑ رہی ہیں۔

انسانیت کی معراج صرف اور صرف انسانیت کی خدمت میں ہی مضمر ہے۔ وہ خدمت جو کسی نمود و نمائش کے بغیر، صرف فی سبیل اللہ، خوشنودیِ خدا کے لیے کی جائے۔ میرا رب یقیناً ان مخلص بندوں کو ان کی نیکیوں کا اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔

لاہور کی مٹی نے ہمیشہ ایسے ہی نیک دل انسانوں کو جنم دیا ہے جو آج بھی اس شہر کے ماتھے پر جھومر کی طرح چمک رہے ہیں۔ ان کا تذکرہ سنتے ہی دلوں میں ایک چراغ جل اٹھتا ہے۔ کیا بلند مرتبہ ہستیاں تھیں

*رائے بہادر میلہ رام*
لاہور کے رئیس ترین صنعت کار اور غریب پرور شخصیت۔ 1904 میں انہوں نے لاہور کا پہلا بجلی گھر لگایا اور سب سے پہلے داتا دربار علی ہجویریؒ کے مزار کو منور کیا۔ صرف یہی نہیں، اپنی مل سے ایک کنکشن کھینچ کر کربلا گامے شاہ کو بھی روشنی بخشی، کسی مذہبی تفریق کے بغیر۔
1921 میں انہوں نے مال روڈ پر اپنی 35 کنال سے زائد زمین لاہور کے چڑیا گھر کے لیے عطیہ کی۔ یہ چڑیا گھر جب تک قائم رہے گا، میلہ رام کا نام بھی زندہ رہے گا۔

*سر گنگا رام*
"بابائے جدید لاہور" کا خطاب پانے والی شخصیت۔ ان کی عطا کردہ یادگاریں آج بھی بولتی ہیں: گنگا رام ہسپتال، مائی بھاگو زچہ و بچہ ہسپتال، گنگا رام ہائی سکول جو بعد میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی بنا۔
انہوں نے اپنی رہائش گاہ "نابھا ہاؤس" ہیلی کالج آف کامرس کے قیام کے لیے وقف کر دی۔
ایچی سن کالج، میو سکول آف آرٹس یعنی آج کی NCA، لاہور میوزیم، اور شہر میں پانی کی سبیلیں بھی ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
میلہ رام کی طرح لاہور ہمیشہ سر گنگا رام کا ممنون رہے گا۔

*گلاب دیوی*
لاہور کی وہ بیٹی جس نے ٹی بی کے مریضوں کی بے لوث خدمت کو اپنا مشن بنایا۔ ان کے نام سے قائم "گلاب دیوی ہسپتال"
آج بھی لاکھوں غریب مریضوں کا سہارا ہے۔
یہ ہسپتال لالہ لاجپت رائے کی والدہ "گلاب دیوی" کی یاد میں 1934 میں قائم ہوا۔

*جانکی دیوی*

زچہ و بچہ کی صحت کے لیے وقف ہستی۔ "جانکی دیوی میٹرنٹی ہسپتال" ان کی محبت اور فکر کا زندہ ثبوت ہے۔

*دیال سنگھ مجیٹھیا*

تعلیم و صحافت کے عظیم محسن۔ دیال سنگھ کالج، دیال سنگھ لائبریری اور اخبار "The Tribune" ان کی عطا ہیں۔ لاہور کا ایک بڑا تعلیمی مکتب آج بھی ان کے نام سے چمک رہا ہے۔

*لالہ لاجپت رائے*
"شیرِ پنجاب" کے نام سے مشہور آزادی کے رہنما، مگر لاہور نے انہیں ایک معلم اور سماجی مصلح کے طور پر بھی دیکھا۔
انہوں نے نیشنل کالج لاہور کی بنیاد رکھی، D.A.V کالج کے بانی رکن رہے، اور 1921 میں Servants of the People Society قائم کی۔
1928 میں سائمن کمیشن کے خلاف لاہور میں احتجاج کرتے ہوئے زخمی ہوئے اور اسی شہر میں شہید ہوئے۔

ڈاکٹر جمعیت سنگھ

لاہور کے نامور معالج اور عوامی خادم۔ غریبوں کے لیے ان کا در ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔

*حکیم اجمل خان*

طبِ یونانی کے وہ آفتاب جن کی روشنی نے لاہور کے غرباء و نادار لوگوں کو صحت کا سہارا دیا۔
دہلی کے اس حکیم کا لاہور سے گہرا روحانی اور فلاحی رشتہ تھا۔ وہ بارہا لاہور تشریف لائے اور یہاں غریبوں کے لیے مفت طبی کیمپ لگائے۔
لاہور کا مشہور "اجمل خان ہسپتال" انہی کے نام اور فکر پر قائم ہے، جو آج بھی یونانی طب کے فروغ اور مفت علاج کا مرکز ہے۔

*بھگت سنگھ شہید*
لاہور کی مٹی کا وہ لعل جس نے جوانی کی قربانی سے شہر کو امر کر دیا۔
نیشنل کالج لاہور میں تعلیم کے دوران ہی انقلابی شعور نے ان کے سینے میں گھر کیا، اور سائمن کمیشن کے خلاف 1928 کے احتجاج میں وہ صفِ اول میں کھڑے تھے۔
لاہور سینٹرل جیل میں مقدمہ، وہی جیل جہاں انہیں 23 مارچ 1931 کو پھانسی دی گئی۔
آج بھی لاہور کا ہر نوجوان جب نیشنل کالج کے دروازے سے گزرتا ہے، تو اسے بھگت سنگھ کی للکار یاد آتی ہے: _"انقلاب زندہ باد!"_

لاہور کی مٹی کا یہ خاصہ ہے کہ یہ مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق سے بالا ہو کر انسانیت کے خادم پیدا کرتی ہے۔ یہ ستارے بجھتے نہیں، کیونکہ ان کی روشنی خدمت کی بنیاد پر ہے۔ لاہور آج بھی ان کا ممنون ہے، اور رہے گا۔

سوچتا ہوں، خدا ان انسان دوست، غریب پرور، مومن صفت لوگوں کو آخرت میں کس انعام سے نوازے گا۔ یقیناً میرا رب کسی کی نیکیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔

میں بحیثیت ایک لاہوری، ان عظیم ہستیوں کا ممنون ہوں۔

تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو

26/01/2026

یادیں لاہور کی
باتیں لاہور کی

**اصلی اور زہر آلود دُھند **

لاہور کے شب و روز میں شدید موسمِ سرما میں پڑنے والی اصلی اور خالص دھند کا مجھے کئ سال کا مشاہدہ اور تجربہ ہے .

یہ اصلی دھند کا لفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ ہمارے دور کی دھند فضائی آلودگیوں سے پاک تھی.

یہ دوسری بات ہے کہ اس دور میں بھی لوگ کھانسی نزلہ زکام کا شکار تو ہوتے تھے مگر اپنی نادانی کے سبب.
یوں ان موسمی بیماریوں کے باعث ڈاکٹروں اور حکیموں کا روزگار بھی چلتا رہتا تھا
مگر آج کی دھند میں ان امراض کا سبب یہ زہر آلود دھند ہے. اور ڈاکٹر، حکیم اور شفا خانوں میں مریضوں کی قطارے لگ جاتی ہیں.
اس دور میں ہم جب صبح صبح پرائمری سکول جو اردو بازار اور لوئیر مال کے سنگھم پہ واقع تھا روانہ ہوتے تو جیسے ہی موری دروازے سے باہر نکلتے تو سرکلر روڈ اور فصیل کے ارد گرد پھیلے تمام باغات نے سردی سے بچنے کیلئے دھند کا لحاف اوڑھ رکھا ہوتا تھا یوں اس گہری دھند میں چلتے ہوئے اکثر یہ گمان گزرتا تھا کہ آج سڑک پہ ہم اکیلے ہی رواں دواں ہیں
اس دور میں اس شدت کی سردی پڑتی تھی کہ صبح جب سکول پہنچتے تو سکول کی چھت کے کونوں میں رات بھر کی شدید سردی اور کُہر گرنے کے سبب برف کی تہیں جمی نظر آتیں تھیں. اس دھند میں ہم بچے منہ میں پینسل دبا کر سگریٹ نوشوں کا روپ دھارتے اور منہ سے دھوئیں کے بڑے بڑے بادل اڑا کر دل خوش کرتے

لاہور کی مشہور ٹھنڈی سڑک
حالیہ شارع قائد اعظم، جو اپنے قدیمی درختوں کے پھیلاؤ سے پوری سڑک کو ہر موسم میں تمازت سے بچائے کے لئے سایہ فگن رہتی تھی . اور ان درختوں کے دامن میں خوش رنگ پھولوں اور سبز گھاس کے تختے واقعی اس سڑک کے نام کی منہ بولتی تفسیر بن جاتے تھے.
( ٹھنڈی سڑک)
سو سردی کے موسم میں سورج ڈھلتے ہی ٹھنڈی سڑک کے یہ درخت بھی دھند میں آہستہ آہستہ ڈوبنے لگتے اور دھند میں چھپ کر یہ درخت دیو ہیکل جنوں کا روپ سا دھار لیتے تھے .
میں سرما کے اس موسم میں کبھی کبھار رات آٹھ نو بجے کے قریب جب ٹھنڈی سڑک سے پیدل لوہاری منڈی کو روانہ ہوتے تو سردی کی شدت سے ناک، منہ اور ہاتھ شل ہونا شروع ہوجاتے تیز تیز قدم اٹھاتے براستہ انارکلی جیسے ہی لوہاری دروازے میں داخل ہوتا تو یوں لگتا جیسے میں گھر کے گرم کمرے میں پہنچ گیا ہوں.

میں کہر آلود سرد راتوں میں ٹھنڈی سڑک کی سردی کی شدت اور اندرون لاہور شہر کے موسم میں اس واضع فرق کو ہمیشہ ہی محسوس کرتا تھا. کھلی سڑکوں کی نسبت تنگ گلیوں بازاروں اور دوکانوں کا رونق میلہ اندرون شہر کی مصروف زندگی ہمیشہ ہی ماحول کو گرمائے رکھتی تھی

کہر آلود سرد راتوں میں لوہاری دروازے کے باہر. پھل فروٹ بیچنے والوں کے علاوہ دو رویہ مونگ پھلی بیچنے والوں کے ٹھیلوں پہ دھرے آگ کے کُجوں میں سے اٹھتا دھواں آنے جانے والوں کے لئے خاموش اشتہار اور توجہ بنتا تھا. اس اشتہاری مہم کے باوجود ٹھیلے والے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد
**ایہہ مونگ پھلی گرم **
کا فلک شگاف نعرہ لگاتے.

لوہاری گیٹ کے باہر ہی قطار میں چلغوزے بیچنے والے بھی اپنے جہازی چھابڑوں میں چلغوزوں کی پہاڑیاں سجائے، گیس کے ہنڈولے روشن کئے گاہکوں کے منتظر ہوتے تھے.
اُس دور میں مونگ پھلی دو آنے کی پاؤ اور چلغوزہ دو آنے کے چھٹانک بکتے تھے.
محدود وسائل کے لوگ چار آنے کی آدھ کلو مونگ پھلی اور صاحبِ حیثیت لوگ ایک روپے کے آدھ کلو چلغوزے خرید کر بچوں اور گھر والی کی خوشیاں سمیٹتے. اور ہم سب بہن بھائی لحافوں میں دبک کے خشک میوں سے لطف اندوز ہوتے.
سنا ہے اب لاہور میں چلغوزہ ایسا نایاب خشک میوہ بن گیا کہ دس، بارہ ہزار روپے کلو میں ملنا بھی خوش قسمتی سمجھا جاتا ہے .

پرانے لاہور کے گلی کوچوں کی کَہر آلود راتوں میں آج بھی
**گرم آنڈے **
کی بازگشت سنائی دیتی ہے.
پھیری والے روزی روٹی کی تلاش میں
**گرم آنڈے، گرم آنڈے **
کا غوغہ مچاتے پہنچ جاتے ہیں
کسی دور میں شہر دار گرم انڈے بیچنے والوں پہ یہی شک کرتے تھے کہ وہ کچھوے کے انڈے بیچتے ہیں.
مگر اب تو لاہور میں مینڈک بھی خال خال ہی نظر آتے ہیں
بھلا یہ گرم انڈے والے اب کچھوے کے انڈے کہاں سے لائیں گے.
ہاں ان گرم انڈے والوں کے بارے میں اب بھی لوگ مشکوک رہتے ہیں کہ یہ کس جانور کے انڈے بیچتے ہیں.

ہمارے دور میں رات سمے
خوانچے والے پرانے لاہور کے گلی کوچوں میں
**ایہہ ریوڑی گلاباں والی، ایہہ چڑوے ریوڑیاں اور شکر قندی گرم **
کا ہانکا لگاتے آن پہنچتے تھے.
اور شوقین لوگ ان سے پسند کی ریوڑی، شکر قندی اور مونگ پھلی خریدتے اور لطف اندوز ہوتے تھے

مجھے یقین ہے کہ آج کی نسل شائد **چڑوے ** کے نام سے بھی شناسا بھی نہ ہو.
بس یہی فرق ہے
لاہور کی موسم سرما کی اصلی دھند اور آج کی زہر آلودہ دھند میں.
ہسدا رہوے لہور
وسدا رہوے لہور

تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو

25/08/2025

انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں سے تختِ لاہور چھینا اور 1857ء میں تختِ دہلی پر بھی براجمان ہو گئے۔ لاہور میں فصیل کے باہر انہوں نے کچھ فاصلے پر ایک جدید لاہور کی بنیادیں ڈالیں۔ لگ بھگ سات کلو میٹر لمبی مال روڈ کی بنیاد 1851ء میں رکھی گئی اور سول انجینئر لیفٹیننٹ کرنل نیپئر اس کے نقشے اور تعمیر کا ذمہ دار تھا۔
یہیں گورنر ہاؤس بھی بنایا گیا۔ اس کے دائیں بائیں پھوٹنے والی سڑکیں بھی اسی نئے لاہور کا حصہ بنیں۔ لاہور ریلوے سٹیشن 1859ء میں قائم ہوا تو اسے سڑکوں کے ذریعے مال روڈ سے بھی ملایا گیا۔
اس زمانے کی چیف کورٹ آف پنجاب (اب لاہور ہائیکورٹ) کے پہلو میں فین روڈ ہے۔ یہ سر ہنری فین (Henry Fane)کے نام سے منسوب ہے جو برٹش ہندوستان میں آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والا کمانڈر انچیف تھا۔
ہائیکورٹ کے عقب میں ایک چھوٹی سڑک اب بھی ٹرنر روڈ کہلاتی ہے جو فین روڈ سے جڑ جاتی ہے۔ یہ الوائن ٹرنر (Alweyn Turner)کے نام سے منسوب ہے جو برٹش دور کا ایک نامور وکیل اور جج تھا۔

مال روڈ پر دوبارہ آئیں تو ریگل پر بائیں ہاتھ ہالز روڈ آتی ہے جو اَب الیکٹرانکس کی بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں چار بڑے ہال تھے جو نمائشوں اور اجتماعات کیلئے استعمال ہوتے تھے۔ اسی لیے اس کا نام ہالز روڈ ہے۔ یہ ہال وقت کے ساتھ ختم ہوکر کمرشل عمارتوں میں تبدیل ہو چکے۔

ہالز روڈ کی بغل میں بیڈن روڈ ہے جو مال روڈ کو میکلوڈ روڈ سے ملاتی ہے۔ اس کا نام Sir Cecil Beadon کے نام پر رکھا گیا جو بنگال کا لیفٹیننٹ گورنر تھا اور جس نے بطور کمانڈر 1857ء کی بغاوت کو فرو کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

مال روڈ پر چیئرنگ کراس‘ جو اَب فیصل چوک ہے‘ لندن میں واقع چیئرنگ کراس کی طرز پر بنایا گیا تھا اور نام بھی یہی رکھا گیا تھا۔ یہاں ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ بھی بنایا گیا تھا۔
چیئرنگ کراس کے سامنے قرطبہ چوک جانے والی سڑک بظاہر اسی مجسمے کی رعایت سے کوئنز روڈ کہلاتی ہے۔ یہاں برطانوی افسروں اور امرا کی رہائش گاہیں تھیں۔
ہائیکورٹ کے مقابل مال روڈ سے ایک اور سڑک پھوٹتی ہے جس کا نام میکلوڈ روڈ ہے۔ یہ سڑک سر ڈونالڈ فرائل میکلوڈ کے نام سے منسوب کی گئی تھی۔ ڈونلڈ میکلوڈ نے لاہور میں کافی کام کیے۔ اورینٹل کالج کی داغ بیل بھی ڈالی اور اس کا بڑا کتب خانہ بھی اس کی موت کے بعد پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کا حصہ بنا۔ لاہور ریلوے سٹیشن بنانے میں بھی اس کا اہم حصہ تھا اور بظاہر اسی لیے یہ سڑک اس کے نام سے منسوب ہوئی۔

میکلوڈ روڈ پر جہاں لاہور ہوٹل ہے‘ ایک سڑک نکلسن روڈ اس سے پھوٹتی ہے جو قلعہ گجر سنگھ کی طرف سے ایمپریس روڈ جاتی ہے۔ نکلسن روڈ‘ جون نکلسن کے نام سے منسوب ہوئی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا فوجی افسر اور آئرش تھا۔ نکلسن 1857ء کی بغاوت میں دہلی میں مارا گیا تھا۔

ایمپریس روڈ ملکہ وکٹوریہ کے نام سے منسوب تھی اور یہ شملہ پہاڑی سے ریلوے سٹیشن کو جانے والی سڑک ہے۔ اسی پر ریلوے ہیڈ کوارٹرز بھی قائم کیے گئے تھے۔

ایجرٹن روڈ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ایجرٹن کے نام پر تھی۔ اسی روڈ پر واقع فلیٹیز ہوٹل ایک اطالوی تاجر انڈریا فلیٹی نے 1880ء میں قائم کیا تھا۔ ان دنوں ایسے ہوٹل کی گوروں کو سخت ضرورت تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح سمیت نامور ترین افراد مثلاً مارلن برانڈو‘ ایوا گارڈنر بھی یہاں مقیم رہے ہیں۔

ڈیوس روڈ شملہ پہاڑی سے اَپر مال روڈ کو ملاتی ہے۔ یہ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ہنری ڈیوس کے نام پر تھی جو 1871ء میں گورنر پنجاب تھا۔ ویلز سے تھا اور اس نے لاہور چڑیا گھر اور میو سکول آف آرٹس (موجودہ این سی اے) کا ادارہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سر لارڈ میو 1869ء سے 1872ء تک وائسرائے یعنی گورنر جنرل ہندوستان رہا۔ میو ہسپتال بھی اسی کے نام سے منسوب ہے لارڈ میو کا اصل نام رچرڈ ساؤتھ ویل بورک تھا اور وہ آئر لینڈ کی میو ریاست کا چھٹا ایرل (Earl) تھا۔ انڈیمان کے دورے پر وہاں سزا کاٹنے والے ایک آفریدی پٹھان نے اسے قتل کرکے اس کے عہدے اور زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔

برطانوی فوجی چیمبرلین کے نام پر موجود سڑک‘ جو مسجد مائی لاڈو کو سرکلر روڈ سے ملاتی ہے‘ ڈپٹی کمشنر برانڈرتھ کے نام پر برانڈرتھ روڈ‘ سر رابرٹ منٹگمری (لیفٹیننٹ گورنر پنجاب) کے نام پر منٹگمری روڈ‘ کمشنر لاہور کے نام پر کوپر روڈ جہاں خواتین کا کالج اب بھی موجود ہے‘ چیف کمشنر پنجاب سر جون لارنس کے نام پر بنی سڑک‘ جو ریگل چوک مال روڈ سے چائنہ چوک کو ملاتی ہے اور جس پر لارنس کے نام کا لارنس گارڈن موجود ہے

24/08/2025

باتیں لاہور کی
یادیں لاہور کی
** لکشمی چوک سے لاہور ریڈیو سٹیشن تک**
ایک دور ایسا بھی تھا جب ہمیں زمانہِ طالبعلمی میں سکوں کو چمکانے کا جنون تھا.
اکثر دوست چونی کو ایڑی سے رگڑ کر اور کبھی لیموں کے رس اور راکھ سے رگڑ کر بھی ان سکوں کو چمکاتے تھے.
پھر ان سکوں سے کچھ خریداری کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا. ان سکوں کو اسقدر محنت اور محبت سے چمکانے کی یہ خبر شائد کسی نے ٹکسال والوں کو کر دی
اور انہیں ہمارا یہ شوق ایک آنکھ نہ بھایا اور ہماری اس بات سے خفا ہو کر ٹکسال والوں نے سکوں کی دھات ہی بدل دی اور ایلمونیم کے سکے ڈھال دئیے.
یعنی
نہ رہے بانس نہ بجے بانسری.

بات ایڑی سے رگڑ کر چونی چمکانے سے شروع ہوئی اور

معاً خیال آیا کہ اُس دور میں اس چونی سے ہم کیا کچھ نہ خریدتے تھے. اس چونی میں ہاف سیٹ چائے مل جاتا تھا. اور ہمارے سکول میں چاچا نان ٹکی والا ایک نان اور دو قیمے کی ٹکیاں بہت خوش ہوکر بیچتا تھا

داتا صاحب، بھاٹی اور لوہاری گیٹ سے چار آنے فی
سواری کے حساب سے لکشمی چوک اور لاہور ریلوے اسٹیشن کو تانگے جاتے تھے. چار سے چھ سواریوں کا منتظر کوچبان تانگے کے پائیدان پہ کھڑا ہوکر تانگے کی چھت سے ذرا گردن بلند کر کے اپنے پھیپھڑوں کی بھر پور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اونچی آواز میں
اعلان کر کے سواریوں کو متوجہ کرتا
**اے لکشمی چوک اے **
اور ریلوے اسٹیشن جانے والے کوچبان سٹیشن کا اعلان کرتے نظر آتے تھے

**اے ٹیشن اے، چلو جی ٹیشن اے**
یہ تانگے فرادا سواری کی سہولت مہیا کرتے تھے . اور ہم اکثر بھاٹی یا لوہاری سے اس تانگے پہ سوار ہو کر لکشمی چوک پہنچ جاتے
اور پھر سینما گھروں اور نگارستانوں کے گڑھ لکشمی چوک کی رونق سے لطف اندوز ہوتے،
اس لکشمی چوک سے پاؤں پاؤں ریڈیو سٹیشن لاہور واقع شارع عبدالحمید بن بادیس پہنچ جاتے تھے.
اس تاریخی لکشمی چوک کے رونق میلہ سے لطف اندوز ہوتے ہمیں ریڈیو سٹیشن تک پہنچنے کا احساس تک نہ ہوتا
اس دور میں اس لکشمی چوک سے ریڈیو پاکستان لاہور تک پہنچنے میں، راہ میں بیشمار سینما گھروں کی رونقیں آباد تھیں
ہم جیسے ہی نسبت روڈ سے لکشمی چوک پار کر کے ایبٹ روڈ پہ بمشکل تمام چند قدم ہی آگے بڑھتے تو بائیں ہاتھ پر نشاط سینما دیکھنے کو ملتا اور دائیں گردن گھما کر دیکھنے پہ کیپٹل سینما پہ فلم بینوں کی قطاریں دیکھنے کو ملتیں اور کیپیٹل سینما کے ہی بالمقابل اوڈین سینما پہ نگاہ پڑتی تو مشہور زمانہ اداکار اعجاز اور اداکارہ شمیم آرا کی فلم
** لاکھوں میں ایک **
کے رنگین بورڈ اور تماشائیوں کے فلم ٹکٹ خریدنے کی دھکم پیل دیکھنے کو ملتی.
بس یوں جانئے کہ شائقین اپنے پسندیدہ اداکاروں کی فلمیں دیکھنے کے لیے کس قدر پرجوش اور جزباتی ہوتے تھے ٹکٹ کے حصول کی جد و جہد اس کا منہ بولتا ثبوت تھی.
فلم لاکھوں میں ایک کی یاد سے، اس وقت اچانک میرے کانوں میں اس فلم کا مشہور نغمہ
سن ساجنا دکھی من کی پکار ہوا ویری سنسار
گونج اٹھاہے

نشاط سینما سے
شروع ہونے والے اس روزانہ کے سفر میں لکشمی چوک سے ملحقہ ایبٹ روڈ پر واقع میٹروپول، مبارک، خیام اور محفل سینما تک پہنچ جاتا
مختلف فلموں کے خوبصورت پوسٹر، رنگین اشتہارات اپنی خاموش زبان میں فلم کی مختصر کہانی بیان کرتے نظر آتے تھے. اور نگارستان کے اس علاقے میں راہگیروں کی رونق قابل دید ہوتی تھی.
اس پیدل سفر کے دوران ٹکا ٹک بیچنے والوں کے کلاسیکل سروں اور ردھم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے قدم خود بخود تیز اٹھنے لگتے اور ہمیں پیدل سفر کے اختتام کا تب احساس ہوتا جب اچانک اسی ایبٹ روڈ پہ واقع محکمہ اطلاعات کے بڑے سبز بورڈ پہ نظریں جا ٹھہرتیں ،
جس پہ سفید جلی حروف میں
Government of Pakistan
Information Department
لکھا ہوتا تھا.
پی ٹی وی کی عمارت کے تقریباً بالمقابل . پی اے ایف کا ریکروٹمینٹ دفتر واقع تھا. یہ سب دلچسپ مناظر دیکھتے دیکھتے ہماری پیدل شاہی سواری لاہور ریڈیو سٹیشن جا پہنچتی تھی.
سکوں کے چمکانے کے چکر میں ہم نے چونی کی داستان اور قوتِ خرید کا تذکرہ کیا یہ اسی چونی کا کمال ہے کہ ہمیں آج فلم نگری اور نگار خانوں کے گڑھ لکشمی چوک سے ریڈیو پاکستان لاہور تک کے پیدل سفر کی بہت سی خوشگوار یادوں کی کہانی یاد آگئ
سوچتا ہوں لاہور تو وہی ہے مگر وقت اور حالات نے کیا کچھ نہ بدل ڈالا
چونی کا سکہ نظروں سے اوجھل ہو نے کے ساتھ ساتھ لاہور شہر سے تانگے کی شاہی سواری بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دم توڑ گئ
آج کے لکشمی چوک کا حلیہ ہی بدل چکا ہے.
ہجوم تو پہلے سے بھی ذیادہ ہے مگر لکشمی چوک کی وہ رونقیں تمام ہوئیں جب نسبت روڈ پہ تانگوں کے کوچبان بھاٹی، لوہاری اور داتا صاحب کی سواریوں کو پکارتے تھے
بھاٹی جی
بھاٹی
اے لوہاری، داتا صاحب جی
آجاؤ باؤ جی بس تہاڈا ای انتظار سی.
اور مجھے پر رونق لکشمی چوک کی تلاش.....
ہسدا وسدا رہوئے لہور
لہور لہور اے جی
فصاحت علی سید
گلاسگو

دہلی، جالندھر اور انبالہ سے منسوب کاروبار، ’لاہور میں محبتیں بانٹی جاتی ہیں۔
22/07/2025

دہلی، جالندھر اور انبالہ سے منسوب کاروبار، ’لاہور میں محبتیں بانٹی جاتی ہیں۔

لاہور 1972 — یادوں، گلیوں اور وقت کا شہریہ نایاب تصویر 1972 کے لاہور کی ایک جھلک پیش کرتی ہے —سادگی، ورثے، اور پرانی طرز...
16/07/2025

لاہور 1972 — یادوں، گلیوں اور وقت کا شہر
یہ نایاب تصویر 1972 کے لاہور کی ایک جھلک پیش کرتی ہے —
سادگی، ورثے، اور پرانی طرزِ زندگی سے بھرپور ایک لمحہ۔
لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ تصویر لاہور کے کس مقام پر لی گئی تھی۔
کیا آپ اس جگہ کو پہچان سکتے ہیں؟

18/04/2025

**اجڑی انارکلی
اور
ایسٹر مبارک **

میرا بچپن، جوانی اور زندگی کی چوتھی دہائی کے پائیدان پہ قدم رکھنے تک کا وقت تو لاہور ہی میں گزرا ہے اور ہماری تربیت کچھ ایسے ماحول میں ہوئی کہ بچپن سے ہی چند خصوصی مسیحی تہوار جیسے کرسمس, ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کا تذکرہ ہمارے گھر میں ہوتا ہی رہتا تھا.
شائد اس لئے کہ ابا مرحوم نے سیکنڈری سکول تک تعلیم مشنری سکول سے حاصل کی تھی.

پھر جب دورانِ ملازمت ہماری بنک سکوئیر برانچ لاہور میں تعیناتی ہوئی تو مسیحی دوست بھی شریک کارکن تھے اور ہم ان کو کرسمس اور ایسٹر کی تہنیت بھی پیش کرتے تھے اور ان تہواروں پہ آن سے کیک اور مٹھائی کا مطالبہ بھی کرتے تھے.

بنک آنے والے چند ایسے کسٹمر بھی تھے
جن کو ہم کرسمس اور ایسٹر پہ مبارک باد پیش کرتے تھے. اور یوں ایک دوسرے کی خوشیوں میں شراکت کی سانجھ کا عملی مظاہرہ ہوتا تھا.

سمن آباد میں میرے پڑوس میں دو تین مسیحی گھرانے آباد تھے جن کو ہم ہر عید پہ کیک بھیجتے تھے.
باقی گلاسگو میں تو ہمارا اپنے پڑوسیوں سے اور ان کا ہمارے ساتھ مثالی بھائی چارے کا رشتہ گزشتہ تین دہائیوں سے قائم ہے.

آج ینگ فوکس لیگ کے تین ارکان، بشمول میرے، پروفیسر مسعود زیدی، اور مشہور سٹیج، ٹی وی اور ریڈیو کے فنکار جاوید رضوی صاحب کے ہمراہ ہم انارکلی بازار، نیو انارکلی بازار، کچہری روڈ نیلا گنبد، بخشی مارکیٹ، خانم بازار، مشہور بانو بازار، دھنی رام روڈ اور انارکلی کی نواحی گلیوں اور مارکیٹوں میں.
گھومنے نکل گئے.
بچپن کی یادیں خوب خوب تازہ کیں وہ زمانہ یاد آیا جب اس علاقے میں ہم نیکر اور بنیان پہن کر بھاگے پھرتے تھے.
انارکلی بازار کے وسط میں دھنی رام روڈ کے بالکل بالمقابل واقع قدیمی درسگاہ سینٹ فرانسز ہائی سکول میں داخل ہوگئے. میرے دو بڑے بھائی اس سکول ہی میں پڑھتے تھے.
اس علاقے کی ایک ایک عمارت، دوکان اور دوکانداروں سے وابستگی کے قصے، سنتے اور سناتے مختلف گلیوں اور بازاروں سے جڑی یادوں کی سانجھ کرتے آہستہ آہستہ آگے رواں دواں تھے.
رستے میں کسی دوکان میں داخل ہوکر ان دوکانوں سے جڑی اپنی پرانی محبتوں کے قصےان دکانداروں کو سناتے سناتے اور وہاں بیٹھی آج کی نسل اپنے اجداد کا تزکرہ سن کر حیرت میں گم ہو جاتی یوں دلچسپ یادوں کے کیواڑ بھی کھلنے لگتے اور کڑی سے کڑی جڑنے لگتی.

قدم قدم پہ لاہور کی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا، دوکاندار ہمیں چائے پانی سے تواضع کی دعوت دیتے ہم شکرگزار ہوتے ہوئے معزرت پیش کرتے اور خراماں خراماں اپنے، پرانے لاہور کی سیر کے سفر کو جاری رکھتے.

اس سیر کے سفر میں انارکلی میں داخل ہونے سے پہلے ہماری ملاقات سو سال سے قدیمی ادارے پبلک ڈرائنگ سٹیشنری کے روح رواں جناب وقار اشرف جعفری صاحب سے ہوگئ.
انہوں نے ہم تینوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور اپنے سو سالہ قدیمی ادارے کی تاریخ کا مختصر احوال سنایا اور محبتوں سے لبریز گرم گرم مشروبات سے ہماری تواضع بھی کی.

ان سے اجازت طلب کی اور ایس محکم الدین اینڈ سنز بیکرز کے سید محکم الدیں نقوی صاحب نے نہ صرف ہمارا شایانِ شان انداز میں استقبال کیا. بلکہ بیکری کے لزیز اور خستہ بسکٹوں سے ہماری تواضع بھی کی.
ایک سو پچاس سالہ قدیمی بیکری کے بارے میں خاکسار نے ایک کالم دو ڈھائی سال پہلے لکھ رکھا ہے. محکم الدین بیکری کے نقوی صاحب نے ہماری، بھائیوں اور قریبی عزیزوں سے بڑھ کر عزت افزائی اور پزیرائی فرمائی ان کا جس قدر بھی شکریہ ادا کروں کم ہے.

انارکلی کی اس سیر نے ہمیں کافی رنجیدہ بھی کیا،. آج کے انارکلی بازار کی شکل و صورت ہی بدل چکی ہے.

ہم شیخ عنایت اللہ اینڈ سنز کی ساٹھ کی دہائی کا سپر سٹور تلاش کرتے رہے، ہم شہرت یافتہ بمبئے کلاتھ ہاؤس کے وہ شو کیس تلاش کرتے رہے جن میں مردانہ سوٹوں کا کپڑا بہت دلکش انداز میں سجایا جاتا تھا، کہ ہر آنے والے کا دل چاہتا تھا کہ ایک دو سوٹ تو خرید ہی لے، بیسٹ واچ کمپنی اور ہارڈویئر کے قدیمی اور مشہور دوکان بمبئے سٹور ڈھونڈتا رہا، شہرت یافتہ پاکستان میڈیسن کمپنی کی تلاش میں مہو رہا ، چاولہ بوٹ اور کرنال شوز والوں کا کوئی اتا پتہ نہ مل سکا. شیریں کدہ اور قصر شیریں کے قصر کے آثار تک بھی نہ دیکھنے کو مل سکے.

میں مٹھائی کی مشہور زمانہ دوکان جالندھر موتی چور والوں کی دوکان دیکھنے تیز تیز قدم اٹھاتا گنپت روڈ کے کونے پہ جا کھڑا ہوا
اور یہ دیکھ کر دل مضمحل اور اداس سا ہوگیا کہ اس دوکان پہ بورڈ تو جالندھر موتی چور کا ہی تھا مگر اس دوکان پہ لڈو مٹھائی وغیرہ دیکھنے تک کو بھی نہ ملے بلکہ سموسوں کے خریداروں کا کافی رش تھا.
انارکلی کے اجڑنے کا از حد رنج ہوا.
کسی دور میں کچہری روڈ پہ
قانونی کتب فروشوں کی بہت سی دوکانیں تھیں. اب تو ایک دو لاء بک سٹور ہی موجود ہیں. باقی سب بک چکے ہیں.

اسی کچہری روڈ پر دیوار کے ساتھ ساتھ پچیس تیس ٹائپسٹ ہو روز دیکھنے کو ملتے تھے. انکے اڈے دو سٹول یا ایک سٹول، ٹائپ مشین اور ایک کرسی پہ مشتمل ہوتے تھے. سامنے کے سٹول پہ وہ اپنی ٹائپ مشین سجاتے تھے. اور دوسرے سٹول یا کرسی پہ بیٹھ کر لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق چٹھیاں، قانونی دستاویزات کی کاپیاں ٹائپ کر کے دیتے. طالب علموں کے اردو اور انگریزی کے تحقیقاتی مقالے ٹائپ کرتے تھے. یہ ایک باعزت روزگار تھا اور دن بھر ٹائپسٹ اپنی ٹائپ مشینوں پہ مصروف رہتے ان کی ٹائپ مشینوں کی چابیاں رولر پہ ٹک ٹک کے جلترنگ سے بجاتی رہتی تھیں.
آج اس دیوار کے ساتھ فقط دو تین ٹائپسٹ بیٹھے تھے. باقی سب یا تو مر کھپ گئے یا پھر کمپیوٹر کی سہولت نے انہیں چاروں خانے چت کر دیا تھا.
دلِ رنجیدہ کے ساتھ واپسی اختیار کی اور مشہور ادارے بائبل سوسائٹی کا بورڈ دیکھ کر قدم جم گئے اور گیٹ پہ موجود ذمہ دار سے علیک سلیک کے بعد بائیبل سوسائٹی کے میوزیم کو دیکھنے کا کہا، میوزیم کے اہلکاروں نے مسکراہٹوں بھری پزیرائی سے ہمارا استقبال کیا. فلم بندی اور تصاویر کی ممانعت کے باوجود ہمیں عکس بندی کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی.
میوزیم سے نکلتے ہوئے میں نے مناسب رقم چندے کے ڈبے میں بھی ڈالی تفاصیل بتانا نمود و نمائش کے زمرے میں آ جاتا ہے. اس ضمن میں تصاویر پروفیسر مسعود بھیجیں گے تو آپ کو روانہ کروں گا.
ہم نے میوزیم کے عملے کو ایسٹر کی تہنیت پیش کی سب سے مصافحہ بھی کیا.
وہاں کا عملہ ہم سب سے بیحد خوش تھا.
بھائی چارے کا یہ اظہار جغرافیائی حدود کا پابند نہیں. ملن ساری اور محبت کا یہ اظہار لاہور، پاکستان میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا یورپ اور امریکہ میں رہتے ہوئے ہم تارکین وطن کیلئے ازحد ضروری ہے.
ہم یورپ اور امریکہ پہنچ کر اظہار تشکر کے طور پر، اپنے خود اختیاری وطن کی تعریف و توصیف تو خوب کرتے ہیں
جو ازحد ضروری بھی ہے.
کہ وطن عزیز کی نسبت ان ممالک کا معیارِ زندگی اور سہولتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے
مگر دوستو ایسٹر یا کرسمس پہ ان کی خوشیوں میں شامل ہونے کےلئے ہمیں بھی عملی مظاہرہ کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لینا چاہئے
اپنے وطن اور خود اختیاری وطن سے محبت ہم تمام تارکین وطن پہ لازم ہے. مجھے فخر ہے کہ میں ہر رات سونے سے پہلے پاکستان اور یوکے کے استحکام کی دعا مانگتا ہوں
میں دونوں ملکوں میں بسنے والی عوام کی فلاح اور پر سکون زندگی کی دعا مانگے بغیر کبھی نہیں سوتا
کیا آپ بھی؟؟؟
پاکستان کا تو بھول جائیں کیا آپ بھی سونے سے پہلے اپنے پیارے خود اختیاری وطن کی سلامتی و استحکام اور خوش حالی کی دعا مانگتے ہیں
اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اس خود اختیاری وطن کی توصیف اور اس سے محبت کے کھوکھلے دعویدار ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں.

وفاداری بشرطِ استوار اصل ایماں ہے
تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو
حال وارد
لاہور

29/03/2025

یادیں لاہور کی
باتیں لاہور کی

**. لاہور شہر طلسم ہفت رنگ**

میں لاہور کے گلی محلوں میں چھینکوں کے ذرئعے خرید و فروخت کا چشم دید ہوں. یہ سہولت بھی کمال سہولت تھی. گھر بیٹھے بیٹھے ڈھیروں خریداری ہو جاتی تھی

لاہور کے گلی محلوں میں بالائی منزلوں میں رہنے والی خواتین کی چھینکے کے ذریعے خرید و فروخت کا منظر ایک معمول تھا.

پھیری والے جب گلی محلوں میں پہنچ کر ہانکا لگاتے تو دوسری تیسری منزل پہ رہنے والی خواتیں کھڑکی سے منہ باہر نکلا کر پھیری والے سے مول تول کر تیں اور یوں جانئے یہ اس دور کی آن لائین خریداری کی ابتداء تھی

وہ خانہ دار خواتین ضرورت کی سبزی اور دوسری اجناس خریدتیں اور اوپر سے ہی جنس کے دام طے کر کے پیسے چھینکے میں رکھ کر نیچے لٹکا دیتیں منی ٹرانسفر کی تصدیق کے بعد پھیری والا سودا اس چھینکے میں ڈال دیتا اور یوں یہ خانہ دار خواتیں کورئیر سے پارسل وصول کرتیں
دو، تین منزل اترنے اور پھر واپس اوپر جانے کی مشقت سے بچ جاتیں. اور آن لائن خریداری کا مرحلہ بخوبی سرانجام پاتا

میں نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ یہ جو سپر سٹورز نے خریداروں کو آن لائین خریداری اور ہوم ڈلیوری کی سہولت کا آغازِ کیا ہے کوئی نئی چیز نہیں
یہ سہولت تو میرے لاہور میں کب کی دستیاب تھی بلکہ اس کو اس تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ لاہور میں تو ہوم ڈلیوری کی بجائے یہ سب پھیری والے
Shop at your door step
کی سہولت فراہم بھی کرتے تھے

یہ پھیری والے ہر روز نیا اور تازہ پھل فروٹ سبزی، کپڑا بیچنے والے، چوڑی بیچنے والے، کان میں چھید کرنے والے داس کلچے والے برتن قلعی کرنے والے، روئی دھننے اور لحاف بھرنے والے، چارپائی کی مرمت والے اور ان کی بُنائی کرنے والے ، بالٹی اور حمام کی مرمت کرنے والے. سرسوں اور خوشبو کا تیل بیچنے والے، کٹھمل اور مچھر مار اور جوؤں کے خاتمے کا پوڈر بیچنے والے جونکیں لگانے والے اور مال کے بدلے مال کے سوداگر دن بھر اپنا اپنا برانڈ بیچنے پہنچ جاتے

میرے پیارے شہر لاہور میں

Shop at ur door step

کی سہولت پانچ چھ دہائی پہلے سے موجود تھی اور یوں دن رات گلی محلوں میں رونق لگی رہتی تھی

میرے لاہور کے گلی کوچوں کی نقل کرتے ہوئے آج دنیا بھر میں ہوم ڈلیوری سہولت کے برانڈ مشہور و معروف ہو چکے ہیں
اور اس سہولت کا آغاز تو ابھی چند سالوں کی بات ہے
میرے شہر لاہور میں یہ سہولت دھائیوں سے موجود تھی
شہرِ طلسمِ ہفت رنگ ہے
میرا لاہور
نئیں ریساں شہر لاہور دیاں
تحریر
فصاحت علی سید
حال وارد
لاہور

29/03/2025

یادیں لاہور کی
باتیں لاہور کی

**شالا وسدا رہوے لہور **لاہور پہنچ کر ایسے لگ رہا ہے جیسے ماں جی کی آغوش میں پہنچ گیا ہوں.
کل جب بھاٹی گیٹ میں داخل ہوا تو ایسے لگا ابا، امی بہن بھائی پرانے محلے دار دوست احباب سب بھاٹی گیٹ پہ پھولوں کے ھار اور گلدستے لئے کھڑے تھے .
ماں جی نے بیگم کو گلے سے لگا لیا
ابا نے بہو کو دست شفقت سے نوازتے ہی مجھے آگے بڑھ کر اپنی بانہوں میں لپیٹ لیا ماتھے پہ بوسا دیا اور دیر تک پیار سے کمر سہلاتے رہے. انکی بانہوں کے حصار میں پہنچتے ہی وہی بچپن کی عافیت و راحت کا احساس جاگ اٹھا اور دیر تک لطف اندوز ہوتا رہا، استقبالیہ ٹیم نے ہمارے گلوں میں پھولوں کے ہار پہنائے اور گلدستے پیش کئے.
ماسی سلامتی اور چاچے افضل سنار اور حاجی صاحب نے بھی بڑھ کر بیگم اور میرے سر پہ ہاتھ پھیرا، اس شفقت اور پیار بھرے جزبات اور پرانے لہور کے محلے داروں کے پیار محبت کی قدر و قیمت کوئی مجھ سے پوچھے

یہ سب دیکھ کر میرے کانوں میں برسو پہلے سنے آلفاظ گونج اٹھے کہ محلے کی بہو بیٹی پورے محلے کی بہو بیٹی ہوتی ہے. اور آج جو پیار بیگم کو ملا وہ اس کا عملی ثبوت ہی تو تھا

سب بچے بوڑھے، ابا، ماں جی ہمیں ایک جلوس کی صورت میں لیکر مفید ہاؤس کی طرف چل نکلے.
اونچی مسجد، محلہ پٹ رنگاں بازار ستھاں، کوچہ جوگی کن پاٹا دائیں بائیں آتے رہے اور ہم آہستہ آہستہ بازار حکیماں کی طرف بڑھتے چلے گئے..
اس بازار میں شائد کسی دور میں بہت سے طبیب اور حکیم اپنی حکمت کا کام کرتے ہوں گے. میں چشم دید ہوں کسی دور میں بھاٹی گیٹ میں داخل ہوتے ہی ہر دوسری تیسری دوکان حکیم کی تھی اور لوگ صبح سویرے وہاں سے صندل کا ٹھنڈا ٹھنڈا شربت اور گاجر، سیب کے مربے خریدنے آجاتے تھے

چونکہ آجکل رمضان ہے، قدم قدم پہ سموسے پکوڑوں کی دوکانوں پہ روزہ داروں کا رش دیدنی تھا
افطاری کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، بہت عرصے کے بعد ایک دوکان میں برف کی سلیں دیکھیں تو . سوچا ف*ج اور اے سی کے باوجود آج بھی چند لوگوں کو افطار کے شربت کے لئے برف خریدنی پڑتی ہے.

یاد آیا جب ہمارے گھر میں ف*ج آیا تھا، تو اماں برف کے لئے کسی پڑوسی کو مایوس نہیں کرتی تھیں اکثر شام کو لوگ اپنے اپنے سلور کے کول اماں کو دے جاتے اور صبح صبح وہ سب اپنا اپنا برف کا کول لسی بنانے کیلئے لے جاتے. کیا کمال محلے داری تھی.

اونچی مسجد کے پاس پہنچا تو گولی والے ادھے بیچنے والے، مچھلی پکوڑے اور پان بیچنے والے دکانداروں کی یاد آگئی. یہ گولی یا بنٹے والی سوڈے کی بوتلیں کمال مہارت سے کھولی جاتی تھی کہ ایک زور دار
ٹھا
کی آواز کانوں میں گونجتی تھی. اس ٹھاہ کی وجہ سے یہ ادھے ٹھاہ بوتل بھی کہلاتے تھے

اور میں ان یادوں کی جگالی کرتا کرتا گھر کی جانب رواں دواں تھا.

ساٹھ کی دھائی میں اس ملک میں سیر و سیاحت کے فروغ کیلئے ایک محکمہ قائم تھا. جو پاکستان ٹورازم ڈویلپمینٹ کارپوریشن کے نام سے جانا جاتا تھا.

اندرون بھاٹی گیٹ بازار حکیماں کی شہرت کی ایک وجہ تاریخی ورثہ فقیر خانہ میوزیم بھی تھا . یہ نجی فقیر خانہ میوزیم گزشتہ چھ نسلوں سے آباد ہے.
محکمہ ٹور ازم کارپوریشن کی شاندار منی بسیں سیاحوں کو لیکر جب بازار حکیماں نزد محلہ کاغذیاں پہنچتیں تو، ہم سب بچے ان سیاح، میم اور صاحب لوگوں کو دیکھنے کیلئے انکے گرد گھیرا بنا کر کھڑے ہو جاتے. کچھ سیاح اپنے کیمروں کا رخ ہماری جانب موڑ دیتے اور ہم تمام بچے خود کو ہیرو سمجھ کر پوز پر پوز مارنے لگتے.

اس بازار حکیماں کی ایک شہرت تاریخی
سیدہ مبارک بیگم کی امام بارگاہ بھی ہے جس کے تمام تر انصرام کی ذمہ داری سر مراتب علی شاہ کے کنبے کے افراد نبھاتے ہیں.

کسی زمانے میں یہاں نامور شیعہ علماء
حافظ کفائت حسین
مولانا اظہر حسن زیدی
اور
علامہ نصیر الاجتہادی
محرم کی مجالس پڑھتے تھے

اس امام بارگاہ کے پاس ہی مشہور اثنا عشری لال مسجد ہے. جہاں رمضان میں تمام نمازیوں کو افطاری پیش کی جاتی تھی.
مجھے یاد ہے پورے ماہ رمضان ہم مغرب اور عشاء کی نماز اس مسجد میں ضرور پڑھنے جاتے تھے کہ بڑی مزے مزے کی افطاری ملتی تھی.

اندرون بھاٹی گیٹ بازار حکیماں سے ٹھانہ ٹبی تک اس بازار اور اس کے بغلی گلی کوچوں میں کئ مزار درگاہیں، آستانوں اور امام بار گاہوں سے کئی داستانیں جڑی ہیں جن کا تزکرہ پھر کبھی سہی.

اور انہی سوچوں میں مگن میں فقیر سراج الدین کے چھوٹی حویلی نما گھر کے قریب جا پہنچا.
لوہاری منڈی کے دو کمرے کے چھوٹے سے کرائے کے مکان سے کرائے کے اس حویلی نما گھر میں جب ہم منتقل ہوئے تو بڑے ابا نے کسی پینٹر سے ایک بورڈ پہ مفید ہاؤس لکھوا کر داخلی دروازے پہ نصب کروا دیا تھا
یوں اس گھر میں منتقلی کے بعد ہماری شناخت مفید ہاؤس والے بن گئ
مفید ہاؤس تک پہنچ کر میرے قدم جم سے گئے اور بدلے ہوئے مفید ہاؤس کو دیکھ کر میں خوابوں سے حقیقت کی دنیا میں پہنچ گیا.
مفید ہاؤس کے باہر دیر تک کھڑا رہا.

وہ دروازہ جس میں بے دھڑک داخل ہو جاتا تھا آج اس دروازے میں داخل ہونے کی جرآت نہ کر پایا. قدم شل ہوگئے.
دیر تک دروازے کے باہر اس انتظار میں کھڑا رہا کہ شائد کوئی اندر باہر آتا جاتا نظر آجائے تو اس سے گزارش کروں کہ کیا میں ایک جھلک اس گھر کو اندر سے دیکھ سکتا ہوں تاکہ اپنی پرانی یادوں کو تازہ کر پاؤں. مگر ایسا ممکن نہ ہو پایا.

لاہور شہر کی مسلسل اکھاڑ پچھاڑ اور پھیلتے لاہور کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگ گلہ کر رہے ہیں اب لاہور اجڑ چکا ہے. اب لاہور پہلے سا نہیں رہا. ارے دوستو اس تمام توڑ پھوڑ کے باوجود بھی لاہور تو لاہور ہی رہے گا.

کوئی میرے دل سے پوچھے میرے دل کا لاہور آج بھی آباد ہے
اجڑیں اس شہر کے دشمن
یہ شہر تو ہمیشہ شاد و آباد رہنے کیلئے بن ہے
ہسدا رہوے لہور
وسدا رہوے لہور
تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو
حال وارد
لاہور

یادیں لاہور کیباتیں لاہور کی** شہتوت جلیبہ جی **کسی دور میں صبح صبح لاہور کے گلی کوچوں میں اس پھل کے ٹوکرے سر پہ سجائے پ...
28/03/2025

یادیں لاہور کی
باتیں لاہور کی
** شہتوت جلیبہ جی **
کسی دور میں صبح صبح لاہور کے گلی کوچوں میں اس پھل کے ٹوکرے سر پہ سجائے پھیری والے ہانکا لگاتے پھرتے تھے
**ایہہ شتوت جلیبہ ٹھنڈا ٹھار اہے **
آج اندرون بھاٹی گیٹ گیا تو ایک ریہڑی پہ اس پھل کو دیکھا، تو قدم جم گئے.
ٹھیلے والے سے بولا یار اب تو شام ہونے کو ہے یہ پھل تو ہمارے زمانے میں صبح صبح بک جاتا تھا. ہمارے بزرگ یہی کہتے تھے کہ یہ پھل نہار منہ کھانا چاہئے.
بہت افسردگی سے بولا باؤ جی

نئی پود کو تو اس پھل سے ذرا بھی رغبت نہیں ایک تو دیکھنے میں یہ کیڑے مکوڑے لگتے ہیں اور وہ تو برملا کہتے ہیں ہم نہیں کھاتے یہ کیڑے مکوڑے. ہاں سیانے بندے اب بھی اس پھل کو کھانا پسند کرتے ہیں
ہم بھی اللہ توکل سودا لے آتے ہیں
بک ہی جاتا ہے
اللہ کا شکرادا کرتے ہیں

پھر رازداری سے کہنے لگا باؤ جی سارا سودا سویرے سویرے بک جائے تو چار پیسے کی دیہاڑی بھی بن جاتی ہے
آپ تو جانتے ہیں تر و تازہ پھل کا وزن دوپہر کے بعد خوشک ہونا شروع ہو جاتا ہے اور وزن کم ہوتا جاتا ہے.
پانی کا چھینٹا پھل کی لزت بگاڑ دیتا ہے

ہم ایسی بد دیانتی کرنا گناہ سمجھتے ہیں.

بھاٹی گیٹ میں داخل ہوتے ہی اس ٹھیلے کو دیکھ کر
بہت دیر تک صبح صبح گلی کوچوں میں آنے والے پھیری والوں کی آوازیں کانوں میں گونجتی رہیں

ایہہ شہتوت جلیبہ ٹھنڈا ٹھار اے

اماں ابا کے چہرے اور اپنا لوہاری منڈی والا گھر یاد آگیا.
جہاں گرمی کے آغازِ پر تقریباً ہر روز ہی نہار منہ سب بہن بھائیوں کو اماں شہتوت بانٹتی تھیں
وہ بھی کیا زمانہ تھا
تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو
حال وراد لاہور

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Papoo Lahori posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category